پہلی تحریر ۔ ۔ ۔ آخری خواہش ۔

دنیا کے تمام مذاہب میں جنت اور دوزخ کا تصور موجود ہے ۔ موت کے بعد انسان کی منزل ان میں سے ایک ہے اگرچہ کچھ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے اور یہ اختلاف موجود ھے لیکن میں جنت دوزخ کی تھیوری کے ساتھ ہی اپنی بات آگے بڑھاونگا۔
جنت نام ھے خوشیوں کا اور خوشیاں تو ہر انسان کی اپنی مرضی کی ھوتی ھیں کوئی شور شرابے میں خوش رھتا ھے تو کوئی تنہائی میں ۔ سو میری خوشیاں بھی میری مرضی کی ھیں اور میں اپنی خوشیوں کی جنت میں جانا چاھتا ھوں اور اسی جنت کے بارے میں آپ لوگوں سے بات کرنا مقصود ھے ۔
مہری خواہش ھے کہ میرے مرنے کے بعد مجھے “زمان و مکان” کی زیارت کردیا جائے وہ زمان و مکان جسے آپ
“Space and Time”
کہتے ہیں ۔ جی ہاں ۔۔۔ زمان و مکان
ایک ایسی نعمت ،ایک ایسا انعام ، ایک ایسا اکرام جس کے عوض میں “حور و قصور” سے بھی دستبردار ھونے کو تیار ھوں ۔اگرچہ یہ کافی بڑی قربانی ھے ۔ 😀😀
میں دیکھنا چاھتا ھوں اس کائنات کو . . مکمل طور پر . ماضی میں ، حال میں ، اور مستقبل میں ۔
میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کسطرح چار اعشاریہ چھ ارب سال پہلے یہاں جہاں آح یہ سیارے گھوم رہے ہیں کچھ بھی نہیں تھا بحز گرد اور گیس کے بادلوں کے ۔ پھر کسطرح وہ سورح بنا حو آج ہمیں زندگی عطا کرتا ہے ، جو اس گندم کی بالیوں کوپکاتا ہے جس نے ہمیں تہذیب یافتہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کیا منظر تھا جب سورج کو دیکھنے کیلئے کوئی سیارہ بھی نہیں تھا، کوئی طلوع اور غروب ہی نہیں تھا ،
میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کسطرح مشتری وہاں پر بنا جہاں وہ آج نہیں ہے اور ہمارے نظام شمسی کا یہ “گاڈ فادر’ وہاں آگیا جہاں یہ اب ہے ۔
میں دیکھنا چاھتا ہوں کہ کس طرح Thia نام کا وہ سیارہ ہماری زمین سے ٹکراکر زمین کو اس زاویے پر جھکا گیا کہ کہ زمین چار موسموں والا سیارہ بن گئی ۔
میں دیکھنا چاھتا ہوں کہ کیسے چاند زمین کے گرد چکر لگانے لگ گیا۔
میں دیکھنا چاھتا ہوں کہ کیسے زہرہ پہ دریا بہتے تھے اور کیا پتہ وہاں زندگی بھی ہو اس وقت ۔ ۔ اور پھر کیسے زہرہ ایک تندور میں تبدیل ہوگیا ۔
میں دیکھنا چاھتا ہوں کہ کس طرح زمین اس قابل ہوئی کہ اس حالت کو پہنچ گئی کہ زندگی کا پہلا خلیہ بن گیا ۔ کس طرح کوئی مخلوق پانی سے باہر نکل آئی اور پھر ۔ ۔ ۔
میں دیکھنا چاھتا ہوں کہ کس طرح زحل کا چاند ٹوٹا اور زحل کو تاج پہنا گیا ۔
کتنا کچھ ہے صرف اس نظام شمسی میں دیکھنے کیلئے ۔۔۔۔۔ وہ چاند جو پانی کے فوارے پھینکتا ھے ، وہ طوفان جو مشتری پر گھومتا چلا جا رہا ہے ، وہ پلوٹو جسے سائنسدانوں نے عاق کردیا ، پتہ نہیں کیا کیا کچھ ۔ ۔ ۔
اور میری جنت کی خواہش یہیں ختم نہیں ہوتی ، میں نے ایک سیکنڈ میں سات سو بار گھومنے والے نیوٹران ستارے پر جھولے لینے ہیں اور چکر آنے پر اس کے قریب کسی سیارے پر آرام کرنا ہے ،کسی بونے سے ستارے کو دیکھ کر مسکرانا ہے ، میں نے کہکشاوں کو ایک دوحے میں ضم ہوتے ہوئے دیکھنا ہے ، میں نے بلیک ہول بنتے ہوئے دیکھنا ہے ، اسکے اندر جانے کا ارادہ نہیں ہے کہ کہیں اس پار جو کائنات ہو وہاں اس کائنات کے اصول ہی نہ لاگو ہوں اور میری جبت مجھ سے چھن جائے ۔ 😊
میں نے ان سات دوشیزاوں کو دیکھنا ہے جن کے پیچھے ایک ریچھ لگا ہوا ہے ، میں نے اس کیسوپیا سے ملنا ہے جو شاید کرسی پہ بیٹغے بیٹھے تھک گئی ہے ،میں نے ملکی وے کے کنارے پر کھڑا ھو کر آندرو میدا کو خوش آمدید کہنا ہے ، میں نے قطبی ستارے سے کہنا ہے کہ وہ میری رہنمائی کرے ان راستوں کی جانب جن کو میں نہیں حانتا ، یہی کام ہے نا قطبی ستارے کا ۔ ۔
ابھی تو بہت کچھ ہے ، بہت کچھ۔ ۔۔۔اور اگر مچھے اس جنت کی ضمانت دیدی جائے تو میں ابھی ، اس وقت اس سفر پہ حانے کیلئے تیار ہوں ۔ کی طرح ، بغیر کسی تیاری کے ۔ ۔ Emily Dickinson
He slowly drove, we knew no haste
And I had put away
My labour and my leisure too,
For his civility.
تحریر: راو آصف عباد

One comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s