سمارٹ لاک ڈاؤن دیکھا آپ نے؟


لاک ڈاؤن نہیں کریں گے۔ کیسے کر سکتے ہیں۔ دیکھئے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بھوک ہے۔ لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں، لوگوں میں بے چینی پھیل گئی تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ ایک ہوتا ہے جزوی لاک ڈاؤن،ایک سخت لاک ڈاؤن اور پھر آتا ہے کرفیو ۔ ۔ ۔
ابھی ہم لاک ڈاؤن کے درجات یاد کررہے تھے۔ کہ سندھ کی امامت میں لاک ڈاؤن  شروع ہوگیا۔ اب چند دن سے میڈیا کے ذریعے پتا چلا  کہ ہم سمارٹ لاک ڈاؤن کے عہد میں داخل ہوچکے ہیں۔حکومتی پھرتیاں پہلے ہی سمجھ سے بالاتر تھیں اور اوپر سے نہ نہ کرتے یہ سمارٹ لاک ڈاؤن کا سن کر عش عش کر اٹھے۔ لیکن بہرحال یہ خلش ذہن میں رہی کہ آخر یہ سمارٹ لاک ڈاؤن ہوتا کیا ہے؟  اور کس طرح اس پر عملدرآمد جاری ہے۔ سوال تو اہم تھا لیکن پیچیدہ ہونے کی وجہ سے کسی کیا نہیں کیا خبر صاحب علم یک بہ یک چاچا بُوٹا بن جائے۔
خوش قسمتی سے سنتے کانوں، دیکھتی آنکھوں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بارے شرح صدر ہو گئی۔ میں نے سوچا آپ دوستوں کے ساتھ بھی اس دلچسپ تجربے  کو شیئر کیا جائے تاکہ میرے جیسے دیگر  دوست جو پچھلے ایک مہینے سے سے گھروں میں دُبکے بیٹھے ہیں اور انتہائی مجبوری میں گھر سے نکلتے اور  سارے رستے پلاننگ کرتے جاتے ہیں کہ کہاں کہاں اور کیسے  بِھیڑ سے بچنا ہے۔
آج پورے ہفتے بعد عدالت سے واپسی پر شہر کے مرکزی بازار کا رخ کیا تاکہ اشیائے ضروریہ خریدی جا سکیں۔ اس مرکزی بازار میں سینکڑوں دکانیں ہیں لیکن صرف سبزی، کریانہ اور میڈیکل سٹور ہی کھلے نظر آئے۔ ہاں بند دوکانوں کے باہر دوکان دار حضرات غمگین سی صورتیں بنائے بیٹھے نظر آئے ۔جنہیں دیکھ کر دل افسردہ ہوا کہ بیچارے دوکاندار بیکاری سے تنگ ہیں اور وقت گزاری کے لیے اپنی دکانوں کے باہر آبیٹھے ہیں۔ میں اپنی مطلوبہ  دوکان پر  پہنچا تو کچھ اور گاہک بھی سامان لینے کے لئے کھڑے تھے۔ دائیں بائیں کی دوکانوں پر کوئی 30/ 40 گاہک نظر آئے۔ اپنی باری پر سامان ملنے کا انتظار تھا کہ یک لخت “او آگئے” کا نعرہ بلند ہوا اور ایسے لگا کہ جیسے سینکڑوں میزائل فائر ہو رہے ہیں اور پلک جھپکتے بظاہر بند دکانوں سے کوئی سو ڈیڑھ سو بدحواس مردوخواتین سڑک پہ آگئے۔چند منٹ منٹ شٹروں کے بند ہونے اور کھلنے کی بلند آوازیں آتی رہیں۔اور  دکانوں کے باہر موجود دوکانداروں نے بازار میں دور تک “او آگئے” کی تصدیق کی۔ خبر غلط ہونے پر دکان کے اندر موجود عملہ کو سب ٹھیک ہے کا سگنل دیا گیا اور بدحواسی میں نکالے گئے گاہکوں کو او چاچا او خالہ جی، بہن جی کہہ کہہ کر بازار میں موجود بھیڑ پھر ختم کردی گئی۔بھیڑ ختم کرنے کے عمل میں بھی کمال پھرتی اور پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔
اب دوبارہ سے بازار میں بھیڑ نہ ہونے کے برابر تھی۔ صرف سبزی اور کریانہ کی دکانیں کھلی نظر آرہی تھیں۔ اور دوکانوں کے باہر بے کاری کے ہاتھوں تنگ بیچارے دکان دار مغموم بیٹھے تھے۔ ہم نے اپنا سامان بھی لیا اور دل ہی دل میں جاری و ساری سمارٹ لاک ڈاؤن کا منظر  دیکھنے کی سعادت پر حالت وجد میں گھر کی راہ لی۔

عبدالرحمٰن عمر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s