ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے سے لےکر کرونا کے انیس پوائنٹس تک

کرونا کے انیس پوائنٹس ہوتے ہیں ـ یہ جملہ محترمہ وزیر صاحبہ کے منہ سے نکلا اور وہ سوشل میڈیا کی زینت بن گئیں ـ پھر نہ جانے کتنے ہی ایسے جملے محترمہ سے منصوب ہوئے ـ ملکی سیاست میں وزراء کی کم علمی کے قصے نئے نہیں ہیں ـ  ہمارے سیاسی ادوار بلا تفریق سیاسی جماعتوں کے  ایسے مضحکہ خیز بیانات سے بھرے پڑے ہیں ـ اب وہ چاہے رحمان ملک کی سورۂ اخلاص مکمل پڑھنے کی بارہا کوشش کے باوجود ناکامی ہو يا اسلم رئیسانی کا ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو يا جعلی جیسا سادہ بیان يا پھر موجودہ وزیر صاحبہ کا کرونا پر عبور ہوـ کم علمی کا یہ سلسلہ نہ ہی نیا ہے اور نہ رکنے والا ہےـ  وزراء ایسے مفکرانہ بیانات جاری کرتے آرہے ہیں اور ہم ان کو طنزومزاح کا ذریعہ بنا کر اگلے کسی ایسے ہی بیان کے انتظار میں چل پڑتے ہیں ـ ملکی وزراء خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں وہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں آپ اور میں رہ رہے ہیں ـ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم سب بھی ایسی ہی کم علمی کا شکار ہیں جسکے سبب ہم ایسے سیاستدانوں کو مسنداقتدار تک پہنچاتے ہیں

  اس پر ایک اور المیہ یہ ہے کہ متعلقہ سیاسی پارٹی اور سیاسی شخصیت کے حامی ایسی نالائقیوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں ـ دانائ کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسےلوگوں کو جوابدہ ٹھرایا جائےـ مگر اسکے بر عکس یہ لوگ طنزومزاح اور حمایت و مخالفت کے خوبصورت پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ موجودہ حکمران جن انقلابی تبدیلیوں کا علم لے کر جلوہ افروز ہوۓ تھے ان کے آثار بھی حد نظر سے باہر ہیں۔ نیا پاکستان کا اس قدر پرچار کیا گیا کہ اس نے پرانے پاکستان کے عکس کا بھی دھندلا دیا۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی نئی تعمیر سے پہلے اس کی بنیاد رکھنا لازمی ہے۔ ہمیں تبدیلی کی عالی شان عمارت کے قیام سے پہلے اس کی بنیاد رکھنا ہو گی تب ھی حقیقی تبدیلی اور نۓ پاکستان کا کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ اور یہ بنیاد ہے ہمارے شعور کا اجاگر ہونا۔ ہمارے شعور کے زندہ ہونے کا ثبوت تو یہ ہوتا کہ ہم عوام زرتاج گل کو موضوع گفتگو تب بناتے جب انھوں نے بحیثیت وفاقی وزیر براۓ ماحولیات ملک سے پلاسٹک بیگز کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا حشر ہم سبکے سامنے ہے۔   نہ کسی مخالف نے نہ کسی حامی نے نہ کسی شہری اور نہ ہی کسی میڈیا پرسن نے اس بارے میں کوئ بات کی۔  سوشل میڈیا کے صفحات پر اتنے اہم منصوبے پر کوئ پوسٹ نظر نہیں آَئی ۔ وزیراعظم یا دیگر سیاستدانوں (بلا تفریق حکومتی و اپوزیشن) سے یہ امید رکھنا کہ وہ وزراء کے ڈیلیور نہ کرنے پر جواب دہی کریں گے تو وہ ہماری 70 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی توقع احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ آپ دیکھ لیجَے گا 5 سال پورے ہونے کے بعد بھی یہ ماحول دوست منصوبہ عملی جامہ نہیں پہن سکے گا۔

یہی کام آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا نے ماہ میں کر لیا۔ بڑے گروسری سٹور تو برسوں سے بائیوڈیگریڈایبل میٹیریل سے تیار کردہ شاپنگ بیگز قیمتاً صارفین کو فراہم کر رہے ہیں۔ چھوٹی دکانوں نے بھی حکومت کے ایک نوٹس پر آسانی سے تحلیل ہو جانے والے ماحول دوست بیگز رکھ لیَے۔ اس ملک میں آپکو کہیں سے پلاسٹک بیگ مفت نہیں ملتا۔ صارف کو یہ خریدنا ہوتا ہے یا پھر لوگوں کی اکثریت اپنے شاپنگ بیگز ساتھ لےکر آتی ہے۔ پورے آسٹریلیا میں بائیوڈیگریڈایبل بیگز کی فراہمی کا یہ نظام صاف ستھرے ماحول اور صحت بخش آب و ہوا کی ضمانت ہے۔ ہم اپنے ملک میں یہ چند ماہ کا کام 5 سال میں بھی نہیں کر سکیں گے آخر کیوں! اس کیوں کا جواب ہمارے اپنے رویے ہیں۔ جب تک ہم زرتاج گل اور ایسے دیگر وزراء کو انکی کم علمی کے سبب تو سوشل میڈیا پر وائرل کریں گے لیکن وفاقی و صوبائی اہم منصوبے مکمل نہ ہونے پر ان سے پوچھ گچھ تو ایک طرف ذکر تک نہیں کریں گے اس وقت تک نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ آنے والے وزراء بھی پشیمان ہوئے بغیر ایسے اقوال ذریں جاری کرتے رہیں گے۔ ہمارا شعور چین کی نیند سوتا رہے گا تبدیلی مزاق بنتی رہے گی اور نئے پاکستان کا خواب ایک خواب ہی رہے گا۔

2 comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s