نا اہل حکومت؟ نا اہل ادارے؟

سانحہ موٹر وے!
صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب اپنے وزیرِ خاص فیاض چوہان اور آئی جی پنجاب پولیس کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے اہم نکات:

وزیرِ اعلیٰ:
وزیرِ اعلیٰ صاحب فرماتے ہیں “میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم بہتر (72) گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس دل خراش واقعہ کے “اصل ملزمان” تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کو پچیس پچیس لاکھ انعام دیا جائے گا اور نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

DJI has redefined the drone racing industry with the new Digital FPV System

جبکہ آئی جی پنجاب انعام غنی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے ڈی آئی جی پنجاب پولیس کی سربراہی میں ایک انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے ممبرز شامل کئے ہیں اور انٹیلجنٹ ایجینسیز سے بھی مدد طلب کی ہے۔ انوسٹی گیشن ٹیم نے بڑی محنت سے سائنسی ڈیٹا سے ملزم عابد کا پتا چلا لیا ہے اور ملزم عابد کے ساتھ دوسرے ملزم وقار الحسن کا بھی پتا چلا لیا ہے جس کا “95-96 فیصد” کنفرم ہے کہ وہ بھی شامل ہے اس سانحہ میں۔ پولیس اتنی فورسز کی مدد سے ملزم عابد کے گھر چھاپا مارتی ہے اور وہ ان کی گاڑی کو دیکھ کر “کھیتوں” میں فرار ہو جاتا ہے۔ اس پریس کانفرس کے بعد ملزم وقار الحسن کا پرنسل ڈیتا، قومی شناختی کارڈ، گھر کا پتا پورے میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے اور ساتھ گرفتار کروانے والے کو پچیس لاکھ کے انعام کا لالچ بھی دے دیا جاتا ہے۔ اگلے دن وقار الحسن خود پولیس کے سامنے پیش ہو جاتا ہے اور اس سانحہ میں شامل ہونے سے انکار کر دیتا ہے اور متاثرہ خاتون بھی اس کو پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کا رزلٹ ابھی آیا نہیں۔ اب حکومت پاکستان سے اور پولیس کے اداروں سے میرے کچھ سوالات ہیں:

۔ جب وقار الحسن کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو وزیرِ اعلیٰ صاحب نے اس کو “اصل ملزم” کیسے کہہ دیا؟
۔ جب وقار الحسن کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں تو آئی جی صاحب نے “95-96 فیصد” کنفرم کیسے کر لیا کہ یہ اصل مجرم ہے؟
۔ اگر اس دوران کوئی شخص پچیس لاکھ کے لالچ میں یا اس سانحہ کی حساسیت کی وجہ سے مشتعل ہجوم وقار الحسن کو یا ان کے گھر والوں کو کوئی نقصان پہنچا دیتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟
۔ جب وقار الحسن کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں تو اس کا ذاتی ڈیٹا میڈیا پر کیوں چڑھا دیا گیا؟ اس سب سے جو اس کے گھر والوں کی دل آزاری ہوئی یا اس کو تکلیف ہوئی اس کا ذمہ دار کون؟

۔ ڈی آئی جی کی سربراہی میں بنائی گئی ٹیم اور انٹیلی جنس ایجینسیوں کی مدد سے ملزم کی موجودہ رہائش کا پتا لگایا جاتا ہے اور اس کی گرفتاری کے لئے ایک ٹیم اس کے گھر پر چھاپا مارتی ہے، بقول آئی جی صاحب کے ملزم عابد ان کی گاڑی کو دیکھ کر “کھیتوں” میں فرار ہو جاتا ہے۔ یہ کیسی پلاننگ تھی کہ دن دہاڑے ملزم پولیس کی گاڑی کو دیکھ کر کھیتوں میں فرار ہو جاتا ہے اور پولیس اس کا پیچھا کر کے پکڑنے کی بجائے عوام کو پچیس لاکھ کے انعام کا لالچ دے کر مفرور ملزم کی گرفتاری کے لئے مدد مانگتی ہے۔ کیا یہ سب عوام کے ساتھ اک بے ڈھنگا مزاق اور ہمارے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟

تحریر: ڈاکٹر اسحاق احمد راےَ

یہ تحریر لکھاری کی ذاتی راےَ پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s