Space for kids اردو کارنر

عجب سائنسدان کی غضب کہانی ۔

روس نے خلا میں پہلا انسان بھیجا تھا لیکن چاند پر پہلا انسان امریکہ نے اتارا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سبقت امریکہ نے روس کے ایک ایسےشہری کی وجہ سے حاصل کی جس کے دو نام تھے ، یک اصلی اور ایک نقلی ۔ اگرچہ وہ دونوں نام ایک عام آدمی کیلئے طویل عرصے تک گمنام رہے۔

الیگزینڈر آئیگناٹوچ شریگی کو دنیا نے اس وقت جانا جب نیل آرمسٹرونگ نے چاند کی تسخیر کے بعد روس کا دورہ کیا ۔ وہ شریگی کے آبائی گھر گیا وہاں عقیدت کے اظہار کیلئے خاموش کھڑا رہا۔کہا جاتا ہے کہ آرمسٹرانگ اس کے گھر کے باہر سے مٹی کی ایک مٹھی یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لیکر امریکہ آیا ۔ نیل ارمسٹرانگ نے روس کو اپنے اس گمنام ہیرو کی یاد منانے کیلیئے درخواست کی ۔ بعد میں شریگی کے نام پر ایک ڈاک ٹکٹ جاری کی گئی ، ایک ادارہ بنایا گیا اور 1997 میں ایک سیارے کا نام یوری کانڈرٹائک کے نام پر رکھا گیا ۔

Aleksandr Ignatyevich Sharegi

یوری کانڈرٹائک ، الیگزینڈر شریگی کا دوسرا نام ہے ۔ نیل آرمسٹرانگ نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ شریگی کی کتاب کے بغیر چاند کی تسخیر ایک ادھورا خواب ہونا تھا ۔
شریگی 1897 میں روس میں پیدا ہوا ۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات میسر نہ ہیں ۔ شریگی کی ماں ایک متحرک سیاسی کارکن تھی اور روس میں یہ کام آسان نہ تھا ۔ جب شریگی پانچ سال کا ہوا تو اسکی ماں کو زار پولیس نے گرفتار کر لیا اور پھر اسکی کوئی خبر نہ ملی۔ پانچ سالہ شریگی کے باپ کے پاس ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس میں سائنس کی کتابیں تھیں ۔ شریگی کا بچپن انہی کتابوں کے ساتھ گزرا ۔ جب شریگی 13 سال کا ہوا تو اسکے باپ کا انتقال ہو گیا ۔ اب شریگی اپنی دادی کے ساتھ رہنے لگ گیا ۔ تمام نامساعد حالات کے باوجود شریگی نے ایک اچھے سکول میں داخلہ حاصل کر لیا بلکہ وہ اپنی ذہانت کی بدولت اس سکول سے یوکرائن کے انجینئرنگ کالج پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگیا ۔ لیکن کالج میں داخلے کے 3 ماہ بعد ہی پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوگیا اور شریگی کو میدان جنگ میں جانا پڑا ۔ شریگی انسان کو خلا میں بھیجنے کا خواب دیکھتا تھا ۔ وہ انسان کو چاند پر اترتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔ اسکی اس خواہش کو اسکے کالج کے ساتھی دیوانے کا خواب ہی سمجھتے تھے ۔ لیکن شریگی جنگ کے دوران بھی اپنی چھوٹی سی ڈائری میں اسی خواب کے بارے میں لکھتا رہتا تھا اور تصویریں بناتا رہتا تھا ۔ اسی میدان جنگ میں شریگی نے ایک ایسی تھیوری مرتب کی جسکی وجہ سے نیل آرمسٹرانگ چاند پر پہنچا ۔ جنگ کے بعد شریگی کو کان کنی کے کام کا نگران بنادیا گیا ۔ اب روس میں انقلاب آچکا تھا اور شریگی اپنے خاندان کے ماضی کی وجہ سے انقلاب دشمن لوگوں کی فہرست میں آگیا ۔ اس نے روس سے پولینڈ بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا ۔ اگلی تین سال شریگی نے کہاں گزارے ، یہ کوئی بھی نہیں جانتا ۔ تین سال بعد شریگی دوبارہ نمودار ہوا تو وہ ”الیگزینڈر شریگی ” نہیں تھا ۔ اپنے ماضی سے خوفزدہ شریگی نے ایک مردہ آدمی کا نام اور شناخت اپنا لی تھی ۔ اب اسکا نام “یوری کانڈرٹائک” تھا۔ اس نام نے اسے اتنی ہمت دی کہ وہ اپنی وہ کتاب چھپوانے میں کامیاب ہوگیا جس کے خواب وہ میدان جنگ کی خندقوں میں دیکھا کرتا تھا ۔ کسی بھی پبلشر کو اس کتاب سے نفع کی امید نہیں تھی اس لئےکانڈرٹائک نے یہ کتاب اپنے خرچے پر چھپوائی ۔ کانڈرٹائک نے کی یہ کتاب ایک ایسے مستقبل کے نام خط تھا جس مستقبل کا خواب اسکے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔ کانڈرٹائک نے اس کتاب کا آغاز اس جملے سے کیا ہے ، ” یہ کتاب اس کیلئے ہے جو اس کتاب کو سیاروں کے درمیان چلنے والے راکٹس بنانے کیلئے پڑھے گا”
کانڈر ٹائک کو اب ایک نئی ذمے داری ملی اور اور اس زہین آدمی نے ایک معجزہ کر دکھایا ۔ اس نے غلے کا ایک خودکار گودام بنانا شروع کیا ۔ روس ان دنوں لوہے کے شدید بحران کا شکار تھا ۔ کانڈر ٹائک نے لکڑی کے اس گودام میں لوہے کا ایک کیل بھی استعمال نہیں کیا ۔اس گودام کا نام “مسٹاڈون ” تھا۔ یہ عظیم گودام 60 سال تک کام کرتا رہا اور 1981 میں ایک آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہوا۔ لیکن سٹالن کا روس ایک عجیب ملک تھا۔ کسی کو غدار قرار دینا سب سے آسان کام تھا ۔ قیدی قید میں ڈال دیئے جاتے تھے اور پھر انہیں بھلا دیا جاتا تھا ۔ کانڈر ٹائک کے مخالفین نے اس گودام کو وسائل کا ضیاع قرار دیا اور وہ پھر ایک بار جیل میں پہنچ گیا ۔ یہ جیل ایک کیمپ تھی جہاں قیدیوں سے مختلف منصوبوں پر کام لیا جاتا تھا ۔ یہاں کانڈر ٹائک نے ایک پن چکی کے منصوبے پر کام شروع کیا ۔ یہیں کانڈر ٹائک کی ملاقات سرگی کارولوف سے ہوئی جو اسی کی طرح خلائی تحقیق میں کام کرنا چاہتا تھا ۔یہی سرگی کارولوف بعد میں روس کے خلائی پروگرام کا باوا آدم بنا ۔ وہ کانڈر ٹائک کے نظریات سے متاثر ہوا اور اس نے کانڈر ٹائک کو اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی ۔ اور یہ وہ لمحہ تھا جب کانڈر ٹائک ایک بار پھر اپنے ماضی سے ڈر گیا ۔وہ جانتا تھا کہ اگر وہ خلائی پروگرام میں شامل ہوا تو اس کی مکمل تحقیق کی جائیگی اور اگر اسکا ماضی الیگزینڈر شریگی کی صورت میں سامنے آگیا تو اسے موت سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔ کانڈر ٹائک نے کارولوف کو انکار کیا اور ایک بار پھر گمنامی کی زندگی میں چلا گیا ۔ دوسری جنگ عظیم میں کانڈر ٹائک پھر فوج میں شامل ہوا اور اور صرف 44 سال لکی عمر میں جنگ میں مارا گیا ۔
اب الیگزینڈر شریگی یا کانڈر ٹائک کی کہانی امریکہ میں داخل ہوئی ۔ اپالو پروگرام کے ابتدائی دنوں میں امریکی سائنسدان اس مسئلے پر غوروفکر میں تھے کہ کسی راکٹ کو چاند پر کیسے اتارا جا سکتا ہے اور کیسے دوبارہ اڑایاجا سکتا ہے ۔ ایک طاقتور راکٹ کو چاند پر اتارنا ایک بہت مشکل کام تھا اور اس پروگرام کے نگران سائنسدان جان ہوبولٹ اپنی ٹیم کے ساتھ سر تور کوششوں میں لگے ہوئے تھے لیکن سوچ جیسے رک گئی تھی ۔ اور پھر کانڈر ٹائک کی کتاب دو امریکی سائنسدانوں کے ہاتھ لگ گئی۔ وہ یہ کتاب لیکر جان ہوبولٹ کے پاس آئے ۔ اور یہ مسئلہ حل ہوگیا ۔ کانڈر ٹائک نے اپنی کتاب میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ایک راکٹ زمین سے اڑ کر چاند تک جائے اور چاند کے مدار میں چکر لگانا شروع کرے ۔ پھر اس راکٹ سے ایک چھوٹی گاڑی علیحدہ ہو اور چاند پر اترے۔ بعد میں یہی چاند گاڑی چاند سے اڑے اور مدار میں گھومتے ہوئے راکٹ سے آملے ۔ پھر وہ راکٹ زمین پر واپس آجائے ۔ اب یہ بات سمجھنی نہایت آسان ہے کہ نیل آرمسٹرانگ کانڈر ٹائک کے گھر کے سامنے عقیدت سے کیوں کھڑا رہا تھا۔ لیکن کانڈر ٹائک نے اس کتاب میں ائک اور ایسا خیال پیش کیا تھا کہ جو آج تک سیاروں کے درمیان سفر کی روح ہے ۔ یہ خیال تھا گریویٹیشنل کک کا ۔ کانڈر ٹائک نے بتایا تھا کہ کس طرح کوئی راکٹ سیاروں کی کشش کا استعمال کر کے اپنی رفتار بڑھا سکتا ہے اور اپنا راستہ متعین کر سکتا ہے ۔
دو ناموں والا یہ گمنام سائنسدان نہ صرف انسان کو چاند پر لے گیا بلکہ وائجر ون سے لیکر سورج کی تحقیق کیلئے جانے والے پارکر مشن تک کو راستہ دکھا گیا۔

ماخوذ؛(Cosmos 2020)
Neil Degrees Tyson . National Geographic Channel

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: